یہ 1996 کی ایک سرد دوپہر تھی شکاگو لاء سکول کے ٹھنڈے کوریڈور تھے اور وہ ان کے برابر میں آہستہ آہستہ چل رہا تھا اس کے ایک ہاتھ میں بریف کیس تھا اور دوسرے ہاتھ میں فائلیں تھیں اور اس نے یہ فائلیں سینے پر رکھ کر انہیں ہاتھ سے دبا رکھا تھا اس کے چہرے پر فکر کی کی لکیریں بکھری تھیں وہ اس عالم میں سٹاف روم میں داخل ہوا اس کے زیادہ تر کولیگز کافی کے مگ ہاتھ میں اٹھائے ایک دوسرے سے گپ شپ کر رہے تھے اس نے کمرے کا جائزہ لیا اس کا دوست کھڑکی کے پاس اکیلا کھڑا تھا اس نے فائلیں اور بریفکیس میز پر رکھا اوورکوٹ کھونٹی پر لٹکایا اور مسکراتا ہوا دوست کے پاس پہنچ گیا دوست نے مسکرا کر پوچھا آج کا دن کیسا گزرا اس نے گرم جوشی سے جواب دیا ”گڈ“ اس کا دوست ماہر نفسیات تھا وہ شکإگولإ سکول میں مجرموں کی نفسیات پڑھاتا تھا وہ فورًا اس کی کشمکش تک پہنچ گیا تم کیا سوچ رہے ہو ؟اس کے دوست نے اس سے براہ راست پوچھ لیا وہ مسکرایا اور بڑے یقین سے بولا میں نے امریکہ کا صدر بننے کا فیصلہ کرلیا اس کے دوست کے پیٹ سے ایک قہقہ اُبلا لیکن اس نے قہقہے کو حلق میں روک لیا وہ اپنے دوست کی نفسیات سے واقف تھا وہ جانتا تھا یہ قہقہ ان کی دوستی میں دراڑ ڈالے گا چنانچہ دوست نے فورا کھڑکی سے باہر دیکھا اور مسکرا کر کہا آج سردی کچھ زیادہ نہیں؟ جاری ہے اس نے دوست کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا دوست کی نظریں کھڑکی سے پھسلتی ہوئی واپس اس کےچہرے پر آگیں دوست نے غور سے اس کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا آریو سیریٸس اسنے اثبات میں سر ہلایا اور بولا پاگل پن کی حد تک سے سریٸس اس کے دوست نے اس کا ہاتھ پکڑا اور دونوں کھڑکی سے چند قدم پیچھے ہٹے اور کرسیوں پر آکر بیٹھ گئے نفسیات دان دوست نے چند لمحے سوچا اور ابھرے ہوےلہجے میں بولا میں تمہارا آٸیڈیےسے اتفاق نہیں کرتا اس نے پوچھا کیوں ؟ وہ بولا اس کی تین وجوہات ہیں نمبر 1۔تمہاری رنگت تم سیاہ فام ہوں اور امریکہ کی تاریخ میں صدر تو دور رہا آج تک کوئی سیاہ فام کسی کلیدی عہدے تک نہیں پہنچا نمبر2 ۔تمہارا والد مسلمان تھا تمہارا ستیلا والد بھی مسلمان تھا اور امریکہ ابھی اتنا لبرل نہیں ہوا کہ وہ تمہارا یہ جرم معاف کر دے اور نمبر 3۔تمہارے خاندان میں آج تک کوئی سیاستدان نہیں گزرا چناچہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انسان کو کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس کا اسے کوٸ تجربہ نہ ہو یا جس میں کامیابی کے امکانات کم ہوں اور جس کی پہلے کوئی مثال بھی موجود نہ ہو اس کا دوست خاموش ہو گیا اس نے دوست کی بات غور سے سنی اور اس کے بعد بولا میرے پاس بھی اپنے اس فیصلے کی تین وجوہات ہیں نمبر 1۔ امریکہ تبدیل ہو رہا ہے امریکہ کی %80 آبادی مڈل کلاس لوگوں کی ہے ان میں اکثریت گھوڑوں کی ہے اور مجھے ان گوروں کی آنکھوں میں اپنے لئے ہمدردی محسوس ہوتی ہے اس کی وجہ پانچ سال کا وہ جبڑ ہے جو گوروں نے میرے رنگ اور میری نسل سے رواں رکھا امریکہ کا مڈل کلاس گھورا آج اس زیادتی پر شرمندہ ہے اور میں اس سے شرمندگی کا فائدہ اٹھا سکتا ہوں پھر کچھ لمحے رکااس نے سوچا اور دوبارہ بولا میں نے تاریخ کا بڑے غور سے مطالعہ کیا مجھے تاریخ نے بتایا دنیا میں کسی قوم کا صبر کبھی ضائع نہیں جاتا اس ملک کے سیاہ فاموں نے پانچ سو سال تک صبر کیا اب اس صبر کے نتیجے کا وقت آچکا ہے اور میں بڑی آسانی سے اس وقت کا فائدہ اٹھا سکتا ہوں نمبر 2۔ میرا سیاہ رنگ اور میرے والد کا مسلمان ہونا میری سب سے بڑی طاقت ہے اپنی کمزوریوں سے واقف ہو چنانچہ میں اپنی کمزوری کو بڑی آسانی سے اپنی قوت بنا سکتا ہوں اور نمبر 3۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انسان قدرت کی واحد مخلوق ہے جس کے لیے دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں جس انسان نے سمندروں میں تیرنے اور ہواٶں اور فضاٶں میں اڑنےے کا فن سیکھ لیا اور جس نے خلا ٕ کے اندر کی دنیا جان لیں اس انسان کے لیے امریکہ کا صدر بننا کوئی زیادہ مشکل نہیں وہ خاموش ہوگیا دوست نے چند لمحے سوچا اور اس کے بعد پوچھا تم مجھے اپنی کوئی پانچ خوبیاں بتاؤ وہ چند لمحے خاموش رہا اور اس کے بعد بولا جاری ہے میری پہلی خوبی میں ہارنے کے بعد حوصلہ نہیں ہارتا دوسری خوبی میں جب کوئی کام شروع کرتا ہوں تو اس میں وقفہ نہیں آنے دیتا میری تیسری خوبی میں عام لوگوں کی نفسیات سمجھتا ہوں ان کے جذبات احساسات اور ضروریات کو سمجھتا ہوں میری چوتھی خوبی اخلاص ہے میں نے آج تک کسی کو دھوکا نہیں دیا میں نے کبھی وعدہ نہیں توڑا میں نے کبھی صلے کو سامنے رکھ کر نیکی نہیں کی اور میری پانچویں خوبی امید ہے میں بورے سے برے حالات میں بھی امید کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا میرے دوست میرے بارے میں کہتے ہیں اگر اسےتنور میں پھینک دیا جائے تو یہ اپنے پسینے سے آگ بجھانے کی کوشش شروع کر دے گا وہ خاموش ہو گیا اس کے دوست نے چند لمحے سوچا اور اس کے بعد بولا میں تمہیں ایک اورخوبی کا تحفہ دینا چاہتا ہوں وہ خاموشی سے اس کی طرف دیکھنے لگا دوست بولا میں نے دنیا کے تمام بڑے لیڈروں میں ایک مشترکہ خوبی دیکھی ہے وہ یہ کہ تمام کامیاب لوگ مسکراہٹ اور سنجیدگی کے استعمال کے ماہر تھے یہ ایک منٹ میں مسکرا بھی سکتے تھے اور اسی منٹ میں ان کے چہرے پر موت جیسی سنجیدگی بھی آجاتی تھی تم نے جس دن یہ سنجیدگی اور مسکراہٹ کا استعمال سیکھ لیا تم کامیاب لیڈر ثابت ہوگیا اس کا ساتھ ہی وہ اپنے سیٹ سے اٹھا اس کا سامنے جھکا اور مسکرا کر بولا میں آپ کی کامیابی کیلئے دعا گو ہوں مسٹر پریزیڈنٹ سکول کا یہ استاد باراک حسین اوباما تھا اس نے 1996 میں ایک ناممکن کام کا بیڑا اٹھایا وہ تمام ملاقاتیوں سے پوچھتا تھا تم امریکہ کو کیسا دیکھنا چاہتےہو؟ 80فیصد لوگوں کا جواب ہوتا تھا ہم امریکہ کو تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں اس کا دوسرا سوال ہوتا تھا تمہاری نظر میں امریکہ کا صدر کو کیسا ہونا چاہیے؟اس کے جواب میں بھی نوے فیصد لوگ کہتے تھے ایسا شخص جو امریکہ کو ہر سطح پر تبدیل کر دے اس نے ان دونوں سوالوں کے جوابوں کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیا وہ تبدیلی کا لیڈر بن گیا اس نے 1996 میں ایلناٸس ایسٹیٹ سے سینٹ کا الیکشن لڑا اور جیت گیا سینٹ میں اس نے ایسے قوانین پاس کروائے جن کا اثر براہ راست عام شہری پر ہوا جس سے اس کی شہرت میں اور اضافہ ہوگیا اس کے یاداشت بڑی شاندار تھی اس نے امریکہ کے تمام چھوٹے بڑے صحافیوں کے نام رٹ لئے وہ ملک کا واحد سیاستدان تھا جو پریس کانفرنس میں صحافیوں کو ان کے نام سے پکارتا تھا وہ ان کے خاندان تک سے واقف تھا 2004 میں اس نے قومی سینٹ کل ایلکشن لڑا اور وہ امریکہ کی تاریخ کا پانچواں سیاہ فام سینٹر بن گیا سینٹ میں پہنچ کر اس نے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا اس کو سینٹ کی تمام کارروائیاں اور ایشوزکی بیک گراونڈ اور آئینی دفعات کی تفصیلات تک ازبر ہوگئی تھی اس کی اس محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ امریکہ کے گیارہ طاقتور ترین سنٹر میں جاری ہے شمار ہونے لگا 2007 میں اس نے خود کو صدارتی امیدوار ڈکلیٸر کر دیا امریکہ کے تمام صدارتی امیدوار انتخابی مہم کے لیے امیروں سے چند لیتے ہیں لیکن اس نے چندہ جمع کرنے کی مہم غریبوں سے شروع کی اس نے عوام سے 5 ڈالر سے دو سو ڈالر تک امداد کی درخواست کی نتیجہ حیرت انگیز نکلا اس نے چھ ماہ میں 58 ملین ڈالر جمع کر لیے یہ امریکہ کی تاریخ میں ایک ریکارڈ تھا جنوری 2008 میں اس نے ایک ماہ میں 36 ملین 80 ہزار ڈالر جمع کیے یہ بھی ریکارڈ تھا اور اس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبول ترین امیدوار ہیلری کلنٹن کو صدارتی دور سے باہر کیا یہ بھی رکارڈ تھا اور وہ 4 نومبر 2008 کو امریکہ کا نیا صدر منتخب ہوگیا اس نے 5 نومبر کی شام شکاگو میں قوم سے پہلا خطاب کیا اس ختاب میں جاری ہے اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر نہ لگایا دنیا میں چیز ناممکن نہیں اور اس کے ساتھ ہفتہی شکاگو کی پوری فضا گونج اُٹھی دنیا میں کوئی چیز ناممکن ہے اوباما نے سچ کہا واقعی دنیا میں کوئی چیز ناممکن ہے بس حوصلہ امید محنت اخلاص اور ویژن چاہیے اور ایک سیاہ فام انسان صرف 12 سال میں دنیا کی واحد سپر پاور کا صدر بن سکتا ہے باراک حسین اوباما دنیا کے ان تمام نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے جو مشکل کو ناممکن سمجھتے ہیں اور جو اپنی ذات اور اللہ کی قدرت پر یقین نہیں رکھتے اور جو خود کو حقیر اور کمزور سمجھتے ہیں
دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں!
Reviewed by 56نیوز
on
March 15, 2020
Rating: 5
No comments