Breaking News

افغان امن معاہدے کے بعد حکومت کس کی ہوگی اشرف غنی کی یا طالبان کی جانٸیے اس رپورٹ میں

افغان امن معاہدہ ہو جانے کے بعد اشرف غنی حکومت کے پاس کم وقت باقی رہ گیا

معاہدے کے تحت طالبان اور افغان حکومت کو 14 ماہ کے اندر حکومت کے قیام کیلئے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ہوگا، افغانستان کے اندرونی معاملات میں امریکا کی جانب سے آئندہ کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی
افغان امن معاہدہ ہو جانے کے بعد اشرف غنی حکومت کے پاس کم وقت باقی رہ گیا، معاہدے کے تحت طالبان اور افغان حکومت کو 14 ماہ کے اندر حکومت کے قیام کیلئے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ہوگا، افغانستان کے اندرونی معاملات میں امریکا کی جانب سے آئندہ کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے بعد قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ممکنہ طور پر اشرف غنی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔
کچھ روز قبل قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ افغان طالبان کے ڈپٹی کمانڈر سراج الدین حقانی افغانستان کے نئے سربراہ بن سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے افغان طالبان نے کوئی اعلان نہیں کیا۔ اب خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کا فیصلہ اگلے 14 ماہ کے دوران ہو ہوگاافغان امن معاہدہ ہونے کے بعد انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز ہو گا، جس کے تحت افغانستان کی اندرونی فورسز کو 14 ماہ کے اندر ملک میں حکومت کے قیام کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے پر پہنچنا ہوگا۔

خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ افغان صدر اشرف غنی کیلئے حکومت بچانا مشکل ہے۔ اشرف غنی حکومت اب تک افغانستان کے اکثریتی علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اشرف غنی حکومت افغانستان کے چند ہی علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے، اس لیے اس حکومت کو برقرار رہنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی صورتحال آنے والے چند ماہ کے دوران ہی واضح ہوگی۔
یہاں واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ افغان امن معاہدہ امریکا اورامارات اسلامیہ کے درمیان ہوا۔
امریکا کی طرف سے زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کی طرف سے ملا عبدالغنی برادر نے معاہدے پر دستخط کیے۔ امریکا اورافغان حکومت کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج 14 ماہ میں مکمل انخلا کریں گی۔ منصوبہ طالبان کی جانب سے امن معاہدے کی پاسداری سے مشروط ہوگا۔

No comments