جرم سے زیادہ سزا دینے کی پکڑ۔۔۔۔۔۔!!!!
ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻗﺎﻟﺖ: ﺟﺎء ﺭﺟﻞ ﻓﻘﻌﺪ ﺑﻴﻦ ﻳﺪﻱ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻘﺎﻝ: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺇﻥ ﻟﻲ ﻣﻤﻠﻮﻛﻴﻦ ﻳﻜﺬﺑﻮﻧﻨﻲ ﻭﻳﺨﻮﻧﻮﻧﻨﻲ ﻭﻳﻌﺼﻮﻧﻨﻲ ﻭﺃﺷﺘﻤﻬﻢ ﻭﺃﺿﺮﺑﻬﻢ ﻓﻜﻴﻒ ﺃﻧﺎ ﻣﻨﻬﻢ؟ ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: " ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﻴﺎﻣﺔ ﻳﺤﺴﺐ ﻣﺎ ﺧﺎﻧﻮﻙ ﻭﻋﺼﻮﻙ ﻭﻛﺬﺑﻮﻙ ﻭﻋﻘﺎﺑﻚ ﺇﻳﺎﻫﻢ ﻓﺈﻥ ﻛﺎﻥ ﻋﻘﺎﺑﻚ ﺇﻳﺎﻫﻢ ﺑﻘﺪﺭ ﺫﻧﻮﺑﻬﻢ ﻛﺎﻥ ﻛﻔﺎﻓﺎ ﻻ ﻟﻚ ﻭﻻ ﻋﻠﻴﻚ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻋﻘﺎﺑﻚ ﺇﻳﺎﻫﻢ ﺩﻭﻥ ﺫﻧﺒﻬﻢ ﻛﺎﻥ ﻓﻀﻼ ﻟﻚ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻋﻘﺎﺑﻚ ﺇﻳﺎﻫﻢ ﻓﻮﻕ ﺫﻧﻮﺑﻬﻢ اﻗﺘﺺ ﻟﻬﻢ ﻣﻨﻚ اﻟﻔﻀﻞ ﻓﺘﻨﺤﻰ اﻟﺮﺟﻞ ﻭﺟﻌﻞ ﻳﻬﺘﻒ ﻭﻳﺒﻜﻲ ﻓﻘﺎﻝ ﻟﻪ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: " ﺃﻣﺎ ﺗﻘﺮﺃ ﻗﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ: (ﻭﻧﻀﻊ اﻟﻤﻮاﺯﻳﻦ اﻟﻘﺴﻂ ﻟﻴﻮﻡ اﻟﻘﻴﺎﻣﺔ ﻓﻼ ﺗﻈﻠﻢ ﻧﻔﺲ ﺷﻴﺌﺎ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻣﺜﻘﺎﻝ ﺣﺒﺔ ﻣﻦ ﺧﺮﺩﻝ ﺃﺗﻴﻨﺎ ﺑﻬﺎ ﻭﻛﻔﻰ ﺑﻨﺎ ﺣﺎﺳﺒﻴﻦ) ،ﻓﻘﺎﻝ اﻟﺮﺟﻞ: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﻣﺎ ﺃﺟﺪ ﻟﻲ ﻭﻟﻬﺆﻻء ﺷﻴﺌﺎ ﺧﻴﺮا ﻣﻦ ﻣﻔﺎﺭﻗﺘﻬﻢ ﺃﺷﻬﺪﻙ ﺃﻧﻬﻢ ﻛﻠﻬﻢ ﺃﺣﺮاﺭ.۔
(ترجمہ) روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک شخص حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے بیٹھ گیا عرض کرنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میرے کچھ غلام ہیں جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں اور میری خیانت کرتے ہیں میری نافرمانی کرتے ہیں میں انہیں گالیاں دیتا ہوں مارتا ہوں تو ان کے متعلق میرا کیا حال ہوگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ان خیانتوں نافرمانیوں اورجھوٹوں کا اور تیرا انہیں سزا دینے کا حساب لگایا جاوے گا پھر اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے جرموں کے بقدر ہوگی تو ادلًا بدلًا ہوجاوے گا نہ تجھے مفید نہ مضر اور اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے قصوروں سے کم ہوگا تو تجھے ان پر بزرگی حاصل ہوگی اور اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے قصور سے زیادہ ہوا تو زیادتی کا تجھ سے بدلہ لیا جاوے گا تو وہ آدمی الگ ہٹ گیا اور چیخیں مارنے رونے لگا تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تو رب کایہ فرمان نہیں پڑھتا کہ ہم قیامت کے دن انصاف والی ترازو رکھیں گے تو کوئی جان کچھ بھی ظلم نہیں کی جاوے گی اگر رائی کے دانہ کے برابر عمل ہوگا تو ہم اسے بھی لائیں گے،ہم کافی حساب لینے والے ہیں تو وہ شخص بولا یارسول اللہ میں اپنے اور ان غلاموں کے لیے انکی جدائی سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ سارے آزاد ہیں۔
{ مشکاۃ المصابیح ،ج3 ،ص1543 ، رقم 5561}
جاری ہے اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ اگر ہمارا کوئی ماتحت غلطی کرتا ہے اور ہم اسے اس کی غلطی سے زائد سزا دیں گے تو کل قیامت میں اس کی بھی سخت پکڑ ہو گی!
لہذا استاذ، قاریوں ، معلمین، والدین اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ بالفرض اگر آپ سزا دینے کے مجاز ہیں تو شرعی حدود میں رہتے ہوئے سزا دیں!
امام اہلسنت نے استاد کے لیے سزا دینے کے چند آداب ذکر فرمائیں ہیں، ان میں جو آداب میرے ذہن میں مستحضر ہیں انہیں ذکر کرتا ہوں!
🌱سزا صرف ہاتھ سے دی جا سکتی ہے، ڈنڈا وغیرہ سے سزا دینا جائز نہیں ہے!
🌱 ہاتھ سے بھی سزا دینے کی صورت میں منہ اور سر پر مارنے کی اجازت نہیں ہے!
🌱ایک وقت میں صرف 3 ضربیں ہی مار سکتے ہیں,3 سے زیادہ ضرب مارنے کی بھی اجازت نہیں!
🌱جرم سے زیادہ سزا دینے والا استاد ظالم کہلائے گا اور کل قیامت میں اس کی پکڑ ہو گی!
{فتاویٰ رضویہ ج23 ، ملخصا}
الله پاک ہمیں شرعی احکامات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے!


No comments